حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بابیت کی تاریخ میں صبح ازل ایک اہم شخصیت ہیں، جن کا نام باب کی وفات کے بعد بابی تحریک کی قیادت اور بعد ازاں ازلی و بہائی گروہوں کی تقسیم کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔
صبح ازل دراصل یحییٰ نوری کا لقب تھا۔ وہ میرزا حسین علی نوری کے سوتیلے چھوٹے بھائی تھے، جو بعد میں ’’بہاء اللہ‘‘ کے نام سے بہائی مذہب کے بانی کے طور پر معروف ہوئے۔
باب کے بعد قیادت کا مسئلہ
علی محمد باب کی پھانسی کے بعد بابیوں میں قیادت کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس موقع پر یحییٰ نوری، یعنی صبح ازل، کو باب کے جانشین کے طور پر پیش کیا گیا اور ایک عرصے تک وہ بابی تحریک کی قیادت سے وابستہ رہے۔
ابتدا میں میرزا حسین علی نوری بھی اپنے بھائی کے ساتھ تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ یوں بابی تحریک کی قیادت کا معاملہ دونوں بھائیوں کے درمیان شدید اختلاف اور مقابلے کا سبب بن گیا۔
بالآخر بابی تحریک دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروہ نے صبح ازل کی پیروی کی، جسے بعد میں ازلیہ کہا گیا، جبکہ دوسرے گروہ نے میرزا حسین علی نوری کی پیروی اختیار کی، جنہوں نے بعد میں ’’بہاء اللہ‘‘ کا لقب اختیار کیا۔ ان کے پیروکار آگے چل کر بہائی کہلائے۔
ازلیہ کا قیام
دونوں گروہوں کے درمیان اختلافات بڑھنے کے بعد عثمانی حکومت نے دونوں بھائیوں اور ان کے پیروکاروں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لیے الگ الگ مقامات پر بھیج دیا۔ صبح ازل کو قبرص اور میرزا حسین علی نوری کو عکا بھیجا گیا۔
اس طرح بابیت عملی طور پر دو الگ دھاروں میں تقسیم ہوگئی: ازلیہ اور بہائیت۔
ازلیہ، صبح ازل کے پیروکاروں پر مشتمل گروہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس گروہ کی تعداد اور اثر و رسوخ محدود ہوتا گیا، جبکہ میرزا حسین علی نوری کی قیادت میں بہائی تحریک ایک الگ مذہبی تحریک کے طور پر آگے بڑھی۔
مختصر طور پر، صبح ازل وہ یحییٰ نوری تھے جنہیں باب کی وفات کے بعد بابی تحریک کی قیادت سے جوڑا گیا، لیکن میرزا حسین علی نوری کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں بابیت دو دھاروں میں تقسیم ہوگئی اور ازلیہ اسی تقسیم سے وجود میں آنے والا گروہ تھا۔









آپ کا تبصرہ